اسلام آباد: جماعت اسلامی نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کردی۔
پی ٹی آئی کے وفد نے اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات کی۔ وفد میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس، سینیئر سیاست دان مصطفیٰ نواز کھوکھر اور نامزد سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جسے قبول کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان، معاشی صورتحال، عوام کے حق حکمرانی اور جمہوری عمل کی بحالی کے لیے متفقہ قومی ایجنڈے کی ضرورت ہے۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر پاکستان کو درپیش مسائل پر بات چیت اور ان کے حل کی راہ نکالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ایک سیاسی جماعت، ادارے، فوج یا بیوروکریسی کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے اور سیاسی و سماجی تقسیم کے خاتمے کے لیے تمام فریقوں کو بات چیت کرنی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آئین کو معطل یا پامال کرنے اور موجودہ نظام کو مخصوص مقاصد کے لیے متاثر کرنے والے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو بہت پہلے بامعنی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تھا، تاہم تاخیر کے باعث معاملات خراب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے قائم کمیٹی کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن بات چیت محض رسمی ملاقات یا فوٹو سیشن تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے نتیجے میں عملی پیش رفت ہونی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی جماعت کے رہنما ہیں اور ان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں پر پابندی درست نہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کے بعد عمران خان کو پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی اجازت ملنی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے عمران خان کی صحت سے متعلق تحفظات دور کرنے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، عمران خان سابق وزیراعظم اور سیاسی عمل کی اہم شخصیت ہیں، اس لیے ان کی صحت سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے گرفتار خواتین، جن میں عمران خان کی بہنیں اور ڈاکٹر یاسمین راشد بھی شامل ہیں، کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ زیرحراست سیاسی رہنماؤں کو صحت کے مسائل کے پیش نظر ضروری سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے اعجاز چوہدری، محمود الرشید اور عامر چیمہ سمیت دیگر گرفتار رہنماؤں کی صحت سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ضمانتوں میں رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان مطالبات پر پیش رفت کرے تو سیاسی کشیدگی میں کمی اور صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات کے ساتھ ساتھ جمہوری، آئینی اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے بھی مشترکہ ایجنڈا تشکیل دینا چاہیے۔