اسلام آباد: ملک کے ٹیکس نظام کو شفاف بنانے اور کاروباری طبقے کو ہراساں کیے جانے کے روایتی طریقوں کے خاتمے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسلام آباد میں باقاعدہ طور پر نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کر دیا ہے۔
نئے نظام کے تحت ٹیکس افسر اور ٹیکس دہندہ کے درمیان آڈٹ اور ٹیکس امور کے حوالے سے براہ راست جسمانی ملاقات نہیں ہوگی، جبکہ ٹیکس انتظامی عمل میں انسانی مداخلت کو کم کرنے کے لیے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام استعمال کیا جائے گا۔
نظام کے تحت کسی فرد یا کمپنی کو آڈٹ کے لیے منتخب کرنے کا فیصلہ کسی ایک افسر کی صوابدید پر نہیں ہوگا بلکہ کمپیوٹرائزڈ رسک مینجمنٹ سافٹ ویئر مشکوک یا خطرے سے دوچار کھاتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ کیسز کا انتخاب کرے گا۔
آڈٹ کے لیے منتخب ہونے والے کیس کو خودکار طریقے سے ملک کے کسی بھی حصے میں تعینات متعلقہ افسر کو بھیجا جائے گا، جبکہ نظام میں ٹیکس دہندہ کی شناخت کو ممکنہ حد تک پوشیدہ رکھنے کا طریقہ کار بھی اختیار کیا جائے گا۔
نئے ماڈل میں شفافیت اور نگرانی یقینی بنانے کے لیے مختلف ذمہ داریاں الگ الگ افسران کو سونپی جائیں گی۔ ایک افسر آڈٹ کرے گا، دوسرا افسر اسسمنٹ تیار کرے گا جبکہ تیسرا افسر حتمی جائزہ لے گا۔
اس نظام کے تحت ٹیکس نوٹسز کے جوابات جمع کرانے اور سماعت کے عمل کو بھی مکمل طور پر آن لائن کیا جائے گا۔ ٹیکس دہندگان اپنے معاملات آئی آر آئی ایس نظام کے ذریعے محفوظ انداز میں نمٹا سکیں گے اور انہیں ٹیکس حکام کے سامنے جسمانی طور پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ایف بی آر کے اس اقدام کا مقصد ٹیکس انتظامیہ میں شفافیت بڑھانا، ٹیکس دہندگان اور افسران کے درمیان براہ راست رابطے کو محدود کرنا اور ٹیکس آڈٹ کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ منظم بنانا ہے۔