غزہ جنگ فوری ختم کی جائے، فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے: مالدیپ

نیو یارک: مالدیپ نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر احتساب یقینی بنایا جائے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مالدیپ کے نائب صدر نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں صرف غزہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں اسرائیلی فوجی حملوں سے بھی ریاستوں کی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست کو اس کی طاقت یا سیاسی اتحادوں کی بنیاد پر احتساب سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔ صرف مذمت کافی نہیں، عالمی برادری کو تشدد کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

مالدیپ کے نائب صدر نے کہا کہ ہر رکن ملک کو خود سے سوال کرنا چاہیے کہ اس نے جاری تشدد کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کو بھی یہی سوال اپنے آپ سے کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان کے یکساں اطلاق کا فقدان ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کا اطلاق بغیر کسی استثنا کے مستقل اور یکساں طور پر ہونا چاہیے۔

مالدیپ نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں، فلسطینی اور دیگر عرب علاقوں پر قبضے اور غیر قانونی بستیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ نائب صدر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینیوں تک انسانی امداد محفوظ، تیز رفتار اور مطلوبہ پیمانے پر پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام اور ان پر عمل درآمد یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

فلسطینی عوام کے مستقبل کے حوالے سے مالدیپ کے نائب صدر نے کہا کہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست فلسطینی عوام کی آزادی، وقار، حق خود ارادیت اور محفوظ زندگی کی ضمانت ہونی چاہیے۔

مالدیپ نے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے والی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی ادارے پر اعتماد بحال کرنے اور تمام ممالک کے ساتھ مساوی سلوک یقینی بنانے کی جانب اہم قدم ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے