پشاور: امن وامان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہوں نے حلف اٹھانے کے بعد کسی پولیس افسر کو کوئی غلط حکم نہیں دیا،کسی پولیس افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانےکاحکم نہیں دیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنےنہیں جا رہے، پرامن احتجاج کرنےجا رہے ہیں، پرامن احتجاج روکنے والوں سےکہیں آئین سے رائٹ ٹو اسمبلی(پرامن اجتماع کا حق) کی شق نکال دیں، جب تک آئین میں رائٹ ٹو اسمبلی موجود ہے، ہم احتجاج کریں گے۔
بعد ازاں پشاور میں انڈر پاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ملک وعوام کی بات کرنے والا لیڈر آج جیل میں ہے، ملک میں یکجہتی اور امن دیکھنا چاہتے ہیں تو بانی پی ٹی آئی کو رہا کرکے دوبارہ وزیراعظم بنانا ہے، ہمیں اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہے، بانی پی ٹی آئی کا کھلاڑی ہوں، فکس میچ نہیں کھیلوں گا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم عوامی مینڈیٹ سے آئے ہیں، جمہوری حکومت کوگرانےکی کوشش کی گئی تو خیبرپختونخوا کے نوجوان اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، اس بارٹیسٹ میچ ہے، پہلے ٹک ٹک کھیلیں گے پھر چھکےماریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک وفاقی وزیرآیا تھا، دو دن رہا کوئی راستا بند نہیں کیا گیا، میں پنجاب گیا ، سارے راستے بند کیےگئے۔ جگہ یہ خود منتخب کریں، یہ ساری پارٹیاں جلسہ کریں، ہم بھی کرتے ہیں، ان کے جلسےمیں ہمارے جلسے سے زیادہ لوگ آئیں تو میں استعفیٰ دے دوں گا