مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ بننے سے روکنا ہوگا، اسحاق ڈار

نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے ڈیزائن، ترقی اور استعمال کے تمام مراحل میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

فرانس کی جانب سے ستمبر کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران مصنوعی ذہانت اور عالمی سلامتی کے موضوع پر اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں اسحاق ڈار نے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں کی دوڑ کا ایک اور پہلو بننے سے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے فوجی شعبے میں غلط اندازوں اور محدود وقت میں فیصلے کرنے سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے تحمل اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔

نائب وزیراعظم نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محفوظ اور ذمہ دار بنانے کی کوششیں ٹیکنالوجی تک رسائی روکنے کا ذریعہ نہیں بننی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے انتظام سے متعلق اقدامات اقوام متحدہ کے تحت نمائندہ، جامع اور عالمی سطح پر تمام ممالک کی شرکت پر مبنی فورمز میں کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے جنیوا میں مصنوعی ذہانت کے انتظام سے متعلق پہلے عالمی مکالمے کا خیرمقدم کیا اور عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کی بانی رکنیت کو مصنوعی ذہانت کو سب کے مفاد اور بھلائی کے لیے استعمال کرنے کی جانب عملی قدم قرار دیا۔

اسحاق ڈار نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون، دنیا میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے موجود خلیج کم کرنے اور امن و ترقی کے لیے تمام ممالک کو مساوی بنیادوں پر مصنوعی ذہانت تک رسائی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس میں مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور معروف ٹیکنالوجی اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کو مصنوعی ذہانت کے ماہر پروفیسر یوشوا بینجیو، اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین، اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی اور ہگنگ فیس کے سربراہ کلیمنٹ ڈیلانگ نے بریفنگ دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے