نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر مالدیپ، ایران، کرغزستان اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
مالدیپ کے وزیر خارجہ اروتیشام آدم سے ملاقات میں پاکستان اور مالدیپ کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ فریقین نے اعلیٰ سطحی روابط برقرار رکھنے اور تجارت، رابطوں، اقتصادی تعلقات، کاروباری روابط، تعلیم اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں جانب سے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
کرغزستان کے وزیر خارجہ جین بیک کلو بائیف سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بائراموف سے ملاقات میں پاکستان اور آذربائیجان کے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے امور پر بات چیت ہوئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی حمایت اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
دریں اثنا، اسحاق ڈار اور گوئٹے مالا کے وزیر خارجہ کارلوس رامرو مارٹینز الوارادو نے پاکستان اور گوئٹے مالا کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کے معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سیاسی مشاورت کے لیے ادارہ جاتی نظام قائم ہوگا، جبکہ باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔