ٹیرف حکمت عملی سے پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممکنہ جنگیں رکوائیں: امریکی صدر

واشنگٹن: امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف کے نفاذ کے باوجود مختلف ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، جبکہ پاکستانی وزیر اعظم نے بھی تسلیم کیا کہ اس پالیسی سے لاکھوں جانیں بچیں۔

ٹیرف پالیسی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ نو ماہ کے دوران کوئی غیر قانونی تارک وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں۔

معیشت کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی ہے، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ میں 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔ ان کے بقول امریکا پہلے سے زیادہ خوشحال اور مضبوط ہو چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نےسابق صدر جو بائیڈن  کے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک تباہی کے قریب تھا جبکہ اب امریکا دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریپبلکنز نے ٹیکس میں کمی کی منظوری دی جبکہ ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی۔

تقریر کے دوران رکنِ کانگریس آل گرین، الہان عمر نے احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی، جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔

خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے