جمرود (مانیٹرنگ ڈیسک) ضلع خیبر میں پاک افغان سرحد پر اچانک کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔
حکام کے مطابق واقعے کے بعد سرحدی علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعات طورخم اور تیراہ کے سرحدی علاقوں میں پیش آئے، جہاں افغان جانب سے اچانک گولہ باری کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے صورتحال کا جائزہ لیا اور بعد ازاں مؤثر جواب دے کر دشمن کی فائرنگ خاموش کرائی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپیں سرحد کے تین مختلف مقامات پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز کے تمام جوان محفوظ رہے جبکہ جوابی کارروائی کے دوران افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
حکومتی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا اور سرحدی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
علاقے میں صورتحال تاحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے تاہم سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت سے نمٹنے کے لیے فورسز مکمل طور پر تیار ہیں۔