"غزہ برائے فروخت نہیں”، واشنگٹن میں پیس بورڈ کے اجلاس کے دوران مظاہرہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی انسٹی ٹیوٹ فار پیس کے باہر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہو گئے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عمارت کے اندر بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس جاری تھا، جس کے دوران مظاہرین نے فلسطین کے حق میں اور غزہ سے متعلق حالیہ بیانات کے خلاف احتجاج کیا۔

مظاہرین نے عمارت کے مرکزی دروازے کے سامنے جمع ہو کر "غزہ برائے فروخت نہیں” اور "فلسطین کو آزاد کرو” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔

احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو یا اس کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے میں فلسطینی عوام کی مرضی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مظاہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی بحران کو سیاسی یا معاشی مفادات کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔

احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پتلا بھی نذرِ آتش کیا اور ان کی پالیسیوں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات تھی اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، تاہم مظاہرین پرامن انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہے۔ کسی بڑے تصادم یا گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی میڈیا کے مطابق انسٹی ٹیوٹ کے اندر ہونے والے اجلاس میں غزہ کی ممکنہ تعمیر نو، علاقائی امن اور مالی معاونت جیسے امور زیر بحث آئے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں غزہ سے متعلق ایک فنڈ کے قیام اور مالی امداد کے اعلانات کیے تھے، جس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ غزہ کی صورتحال ایک انسانی المیہ ہے اور اسے کسی سیاسی سودے بازی کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کا احترام کیا جائے اور فوری جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ امریکی انسٹی ٹیوٹ فار پیس میں جاری بورڈ آف پیس کا یہ پہلا اجلاس ہے، جس پر نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

واشنگٹن میں ہونے والا یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ غزہ کے مسئلے پر عالمی رائے عامہ منقسم ہے اور اس حوالے سے بحث تاحال شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے