پاکستان ایشیا میں سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ایشیا میں سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک بن کر رہ گیا ہے، جہاں مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں سرمایہ کاری کی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

تازہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کا تناسب 13.8 فیصد ہے، جبکہ ملک اب تک مالی سال 2022 میں حاصل کی گئی 15.6 فیصد کی بلند ترین سطح بھی بحال نہیں کر سکا۔

اس کے برعکس بنگلہ دیش نے 2025 میں سیاسی اور معاشی ہنگامہ خیزی کے باوجود مضبوط کارکردگی دکھائی اور اس کی سرمایہ کاری کا مجموعی قومی پیداوار سے تناسب 22.4 فیصد رہا، جو پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فرق دونوں ممالک کے سرمایہ کاری کے ماحول اور پالیسی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔خطے کے دیگر ممالک میں بھارت اور ویتنام 30 فیصد سے زائد سرمایہ کاری کی شرح برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان ممالک نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کیا، جبکہ پاکستان میں پالیسیوں کے تسلسل اور انتظامی اصلاحات کی رفتار سست رہی۔

صنعتی رہنماؤں کے مطابق اعلیٰ سطح پر سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے باوجود بنیادی ساختی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ توانائی کی بلند لاگت، ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام، درآمدی پابندیاں اور انتظامی سست روی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

کاروباری حلقوں نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اگرچہ مجموعی معاشی حالات میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم کسی بھی صنعتی منصوبے کے آغاز کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں سے تقریباً 25 اجازت نامے حاصل کرنا پڑتے ہیں۔

اس طویل اور پیچیدہ عمل کے باعث منصوبوں میں تاخیر، اضافی اخراجات اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جس سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو خطے کی بڑی معیشتوں کے برابر لانا ہے تو سرمایہ کاری کے عمل کو آسان، شفاف اور تیز بنانا ہوگا، غیر ضروری اجازت ناموں کو کم کرنا ہوگا اور پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے