واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ پہلے باضابطہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم کردہ فنڈ میں ابتدائی طور پر 7 ارب ڈالر جمع کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف ممالک نے اس رقم کو بطور ابتدائی ادائیگی فراہم کیا ہے تاکہ تباہ حال علاقے کی بحالی کا عمل جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے طویل خطاب کے اختتام پر متعدد اہم اعلانات کیے، جن میں سب سے نمایاں امریکہ کی جانب سے بورڈ آف پیس کے لیے 10 ارب ڈالر کی خطیر رقم دینے کا اعلان تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نہ صرف اس اقدام کی قیادت کرے گا بلکہ مالی معاونت میں بھی پیش پیش رہے گا تاکہ غزہ سمیت دیگر تنازعات سے متاثرہ خطوں میں پائیدار امن اور تعمیر نو کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اجلاس بورڈ آف پیس (BoP) کا پہلا باضابطہ اجلاس تھا، جس میں دنیا بھر کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شریک تھے، جو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی اس اہم سفارتی سرگرمی کا حصہ بنے۔ عالمی رہنماؤں کی شرکت کو اس نئے عالمی فورم کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ستمبر میں پہلی بار بورڈ آف پیس کی تجویز پیش کی تھی، جب انہوں نے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس بورڈ کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے دنیا کے دیگر تنازعات کے حل کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے جمع ہونے والی 7 ارب ڈالر کی رقم ابتدائی مرحلے کے لیے ہے، جبکہ مستقبل میں مزید وسائل اکٹھے کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق، جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، رہائشی مکانات، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی بحالی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی۔