برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے، جسے کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو مؤثر طور پر ناکام بنانے کے لیے کافی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اور جنگی سازوسامان میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس سے طاقت کے توازن اور ممکنہ عسکری تصادم کے امکانات پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ اب ایرانی ساحل کے مزید قریب پہنچ چکا ہے۔
پہلے یہ بیڑہ ایران سے تقریباً 700 کلو میٹر کی دوری پر تھا، تاہم اب یہ فاصلہ کم ہو کر تقریباً 240 کلو میٹر رہ گیا ہے، جسے عسکری ماہرین ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحری اور فضائی طاقت میں اس اضافے کا مقصد خطے میں عسکری برتری کو مستحکم بنانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی عسکری نقل و حرکت نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمی کے باعث سفارتی محاذ پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ کسی بھی غلط اندازے یا حادثے کی صورت میں کشیدگی کھلے تصادم کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، کیونکہ اس کے اثرات بین الاقوامی امن اور عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔