تہران: ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران پر دو مرتبہ حملے کیے گئے، معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا، ایرانی قیادت کو قتل کیا گیا اور عوام پر پابندیاں مزید سخت کی گئیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق امریکہ نے 17 جون کو دستخط کیے گئے مفاہمتی معاہدے کو خود نقصان پہنچایا، لیکن اب وہ دنیا سے ایران کی مذمت کا مطالبہ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی غیر قانونی جارحیت کی قیمت پورا خطہ عدم استحکام اور عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کی صورت میں ادا کر رہی ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکہ اپنی مرضی کی جنگ شروع کرکے پورے خطے کو آگ میں نہیں جھونک سکتا، عالمی سطح پر افراتفری پیدا کرنے کے بعد خود کو مظلوم ظاہر نہیں کرسکتا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جارح کو الزام لگانے والا اور متاثرہ فریق کو قصوروار بنا کر ذمہ داری سے بچنے کی کوشش قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے مناب میں بچوں کی ہلاکتوں اور لامرد میں بچیوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے ان حملوں میں بھاری نقصان اٹھایا ہے۔