دوحہ: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعت میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ’بدر‘ کے نام سے ایک کثیرملکی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی پیداوار، تحقیق و ترقی اور فوجی تربیت کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چاروں ممالک کی وزارتِ دفاع کے نمائندوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت چاروں ممالک اپنے دفاعی صنعتی وسائل اور تکنیکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیں گے۔ اس میں دفاعی سازوسامان کی مشترکہ تیاری، تحقیق و ترقی، تکنیکی تربیت اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔
اس اقدام کا ایک اہم مقصد پہلے سے جاری دوطرفہ دفاعی منصوبوں کو ایک وسیع کثیرملکی صنعتی فریم ورک میں شامل کرنا ہے، تاکہ رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
معاہدے کے تحت ہر ملک اپنی دفاعی صنعت کی مہارت اور پیداواری صلاحیت کے مطابق تعاون میں حصہ ڈالے گا۔ اس سے دفاعی پیداوار میں خودانحصاری بڑھانے، تکنیکی مہارت کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
’بدر‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی پورا چاند ہیں۔
یہ معاہدہ چاروں ممالک کے درمیان دفاعی صنعتی روابط مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم، اس مفاہمت کی یادداشت کو باہمی دفاعی معاہدہ نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ اس کا بنیادی محور دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور تربیت میں تعاون ہے۔