اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو سال میں 200 ملین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے 20 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کے صدر کے پہلے دورۂ پاکستان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا اہم موقع ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تجارت، دفاع، صحت، تعلیم، سیاحت، ٹیکنالوجی، پولیس اور نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے۔ موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم تقریباً 13.9 ملین ڈالر ہے، جسے دونوں ممالک کی قیادت نے آئندہ دو سال میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ عوام کو ان کے ٹھوس فوائد حاصل ہو سکیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 250 پاکستانی ڈاکٹرز اور طبی عملہ مالدیپ کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ پاکستان مالدیپ کے طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع بڑھانے اور طبی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے مالدیپ میں پانچ سال کے دوران 50 لاکھ درخت لگانے کے ہدف میں معاونت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک لاکھ زیتون کی قلمیں اور مختلف اقسام کے ایک لاکھ بیج فراہم کرے گا۔ وزیراعظم نے مالدیپ میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے منصوبوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستانی تکنیکی مہارت اور تجربات کے تبادلے کی پیشکش بھی کی۔
فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازعے پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلے کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ضروری ہے اور پانی کو دباؤ یا تنازعات کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے معاملے میں کسی بھی خلاف ورزی کو پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے وزیراعظم، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 60 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول، ایک دہائی کے وقفے کے بعد دورۂ پاکستان دونوں ممالک کو اپنی تاریخی دوستی مستحکم کرنے اور مستقبل کی شراکت داری کے لیے نئی سمت متعین کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
صدر معیزو نے دوطرفہ تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور باہمی رابطوں کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے مالدیپ پاکستان بزنس فورم کو کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کے درمیان شراکت داری بڑھانے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
مالدیپ کے صدر نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز کے لیے جاری بات چیت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ فضائی رابطوں سے سیاحت اور عوامی روابط کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے مالدیپ کے طلبہ، کھلاڑیوں، کوچز اور نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ تعلیمی وظائف اور تربیتی مواقع کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
صحت کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے صدر معیزو نے بتایا کہ مالدیپ کے طلبہ کے لیے ایم بی بی ایس کی نشستوں میں اضافے اور مالدیپ کے طبی فارغ التحصیل طلبہ کے لیے پاکستان میں انٹرن شپ کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کو مالدیپ کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے صدر معیزو نے کہا کہ دونوں ممالک ماحولیاتی تحفظ، کچرے کے انتظام، قابل تجدید توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تعاون کریں گے۔
انہوں نے مالدیپ میں شجرکاری کے منصوبے کے لیے پاکستان کی معاونت پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، فنی تعلیم اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیں گے۔