بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دینے اور اس پر عمل درآمد سے قبل بنگلہ دیشی حکام کو اطلاع نہ دیے جانے کے معاملے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے 18 اکتوبر کو سعودی سفیر سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی تھی۔
بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق مکہ مکرمہ میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو ایک مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی فعل کے مقدمے میں سزائے موت دی گئی۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے جاری بیان میں مبینہ فعل کی تفصیلی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔
اس معاملے میں سفارتی رابطوں اور قونصلر معاونت کی فراہمی پر بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیشی قونصل خانے کو نہ مقدمے کی کارروائی کے بارے میں علم تھا اور نہ ہی سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل اطلاع دی گئی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ دونوں شہریوں نے قونصل خانے سے رابطہ کیا تھا یا قونصلر معاونت کی درخواست دی تھی۔
قانونی ماہرین کے لیے اس معاملے کا ایک اہم پہلو قونصلر تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کا آرٹیکل 36 ہے۔ اس کے تحت گرفتار غیر ملکی شہری کو قونصل خانے سے رابطے کے حق سے آگاہ کرنا اور اس کی درخواست پر متعلقہ قونصل خانے کو اطلاع دینا ضروری ہے۔
اس واقعے نے غیر ملکی شہریوں کے قانونی حقوق، قونصلر معاونت اور سزائے موت کے مقدمات میں شفافیت سے متعلق سوالات کو نمایاں کیا ہے۔
اب توجہ اس بات پر ہے کہ سعودی حکام بنگلہ دیشی حکومت کو مقدمے کی کارروائی، قانونی بنیاد اور سفارتی اطلاع سے متعلق کیا وضاحت فراہم کرتے ہیں۔