دوحہ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن کے قیام کے لیے صبر، اعتماد اور مسلسل سفارتی کوششیں ضروری ہیں، کیونکہ دیرپا امن کسی ایک ملاقات سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عالمی سلامتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کے باوجود پاکستان نے سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔
وزیر داخلہ نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور دوحہ نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے مل کر کام کیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ امن کے لیے صبر، اعتماد اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی رابطوں کا جاری رہنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران 16 گھنٹے سے زائد مسلسل کام کیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یہ معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد جنگ کے بجائے امن کو فروغ دینا ہے۔
محسن نقوی کا یہ بیان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں اور علاقائی بحران فوجی تصادم میں تبدیل ہوا تو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اجتماعی بازدار نظام فعال ہو سکتا ہے۔
آزاد عربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
محسن نقوی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور دونوں ممالک مذاکرات کی شرائط پر اختلافات رکھتے ہیں۔