پاک فضائیہ کے تابڑ توڑ حملے: قندھار میں واقع ’سرائے ملا عمر‘ سمیت افغانستان کے کئی مقامات نشانہ

اسلام آباد: پاکستان کے گزشتہ شب افغانستان پر حملوں کے بعد جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں میں کئی ’فوجی‘ مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ شہر قندھار میں ’سرائے ملا عمر‘ پر بھی حملہ کیا گیا، جو ایک فوجی تنصیب سمجھی جاتی ہے۔ تصاویر سے واضح ہے کہ اس مقام پر موجود متعدد ہینگر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

سرائے ملا عمر، جو کبھی طالبان کے سابق رہنما ملا محمد عمر کی رہائش گاہ تھی، جمہوری دورِ حکومت میں افغانستان میں امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے مراکز میں شامل رہی تھی۔

قندھار سے شائع ہونے والی تصاویر میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ حملوں کے بعد علاقے میں آگ اور دھواں واضح طور پر موجود تھا۔

صوبہ پکتیا میں، دارالحکومت گردیز کے نواحی علاقے میں ایک ہینگر کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس ہینگر کے اندر کیا رکھا گیا تھا۔

صوبہ خوست کی تصاویر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک فوجی مقام پر حملہ کیا گیا، جہاں دو ہینگر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

اس سے قبل طالبان حکومت کے ترجمان نے قندھار، خوست اور پکتیا صوبوں میں پاکستان کے فضائی حملوں کی تصدیق کی تھی۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے