امریکا اور ایران کے درمیان مسقط مذاکرات: مثبت پیش رفت، تناؤ برقرار
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں جوہری معاملات پر مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے سربراہان نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا، تاہم خطے میں تناؤ ابھی بھی برقرار ہے۔
ان مذاکرات میں دونوں فریق آمنے سامنے نہیں آئے بلکہ امریکی اور ایرانی وفود نے علیحدہ علیحدہ عمانی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں اور اپنے مطالبات اور تحفظات پیش کیے۔ عمانی وزیر خارجہ نے ایرانی منصوبے کو امریکی وفود تک پہنچایا اور ایرانی وفود کو امریکی موقف سے آگاہ کیا۔
مذاکرات کے فوراً بعد امریکا نے ایران کی تیل برآمدات پر نئی پابندیاں عائد کیں، جن کا مقصد ایران کی غیر قانونی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کو روکنا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پابندیاں دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ان کا مذاکرات سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ ملاقاتوں کا دوسرا دور آئندہ ہفتے شروع ہوگا۔ انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج سخت ہوں گے۔
ایران نے بھی مسقط مذاکرات کے دوران مثبت ماحول کی تعریف کی اور مزید مذاکرات پر اتفاق کیا۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت ہوئیں جب خطے میں امریکی بحری بیڑے چوکس ہیں اور صدر ٹرمپ کے اشارے کا انتظار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی میں ایران کی جوہری تنصیبات اور اعلیٰ پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کو نشانہ بنایا تھا، اور اس کے بعد یہ پہلی بات چیت ہے۔