ترلائی کلاں خودکش حملے کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت

ترلائی کلاں خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت، سہولت کار گرفتار

ترلائی کلاں میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مار کر خودکش حملہ آور کے چار سہولت کار گرفتار کر لیے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشنز ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلیجنس کے مشترکہ نتیجے میں کیے گئے۔ خودکش حملہ آور کے سہولت کاروں کے علاوہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ، جو افغان داعش سے تعلق رکھتا ہے، کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں ہوئی، اور افغان طالبان کی سرپرستی میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خطے اور عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ اس آپریشن کے دوران وطن کا ایک جوان شہید اور تین افراد زخمی ہوئے۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خودکش حملہ آور یاسر، پشاور کا رہائشی ہے، اور اس کے 4 سہولت کاروں کے علاوہ راولپنڈی میں سہولت کاری کرنے والے بھی حراست میں لیے گئے۔ حملہ آور نے مسجد کی ریکی کی تھی اور چار مہینے افغانستان میں رہ کر واپس آیا۔

شواہد جمع کرنے کے لیے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے فائرنگ کی، اور ہال میں جا کر خود کو اڑا لیا۔

حملہ آور نے 4 سے 6 کلو بارودی مواد استعمال کیا، جس میں بال بیرنگ کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ حملے کے دوران راستے میں 2 اور اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائی گئیں، جن کے خول جائے وقوعہ سے مل گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے