اسلام آباد: ایک غیر ملکی جریدے نے پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کا نیا مرکز قرار دے دیا ہے۔
عرب نیوز میں شائع مضمون کے مطابق، پاکستان میں معاشی اصلاحات کے نتیجے میں افراط زر کی شرح کم ہو کر 5 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور شرح سود میں کمی کاروباری اعتماد میں بہتری اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی نشاندہی کرتی ہے۔
مضمون میں بتایا گیا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ اب سرپلس میں ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کئی برسوں بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں بھی پاکستان کی اصلاحاتی پیشرفت کو تسلیم کر رہی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سروے میں پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے قابل عمل ملک قرار دیا گیا ہے۔ ملک میں براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی، ڈیجیٹل ادائیگیاں اور کم لاگت ریئل ٹائم ٹرانزیکشن پلیٹ فارمز اب روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ مضمون پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کی بہترین عکاسی کرتا ہے، اور بنیادی معاشی اشاریے تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ قومی سطح کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پاکستان کو دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں برتری فراہم کرتے ہیں۔
مزید برآں، پالیسی استحکام اور اصلاحات کے تسلسل نے طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے اعتماد بحال کر دیا ہے۔ خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے 5G، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اگلے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی مستحکم معاشی اصلاحات اور ڈیجیٹل ترقی کی بدولت پاکستان عالمی سطح پر، خاص طور پر خلیجی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے، اور یہ ملک طویل المدتی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے والی معیشت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔