نئی دہلی: مودی حکومت ہفتے کے روز جنریشن زی کے احتجاجی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کرنے جا رہی ہے، جن کے احتجاج کے باعث اس ہفتے دارالحکومت نئی دہلی میں معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس احتجاج کو 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کو نوجوانوں کی جانب سے درپیش سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور اسی معاملے پر پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی شدید احتجاج کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ہزاروں حامیوں نے دہلی کے مرکزی علاقے میں ریلی نکالی، حالانکہ احتجاجی مقام تک رسائی محدود کرنے کے لیے شہر کے 18 میٹرو سٹیشن مسلسل چوتھے روز بھی بند رکھے گئے تھے۔ پارٹی کے قومی ترجمان اشوتوش رانکا نے کہا کہ ’حکومت نے آج سہ پہر ساڑھے تین سے چار بجے کے درمیان مذاکرات کا وقت دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’ہمیں دھرمیندر پردھان کے مستقبل کے بارے میں واضح جواب چاہیے۔ کیا حکومت ان سے استعفیٰ لے گی یا نہیں؟ ہمیں صرف ہاں یا ناں میں جواب درکار ہے۔‘ پیر کے روز پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد عوامی غصہ مزید بڑھ گیا۔ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے ہزاروں طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے کی گئی اس کارروائی میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔
زیادہ تر نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج میں روزگار کے محدود مواقع، بدعنوانی اور حکومتی جوابدہی جیسے مسائل پر بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ تاہم اس تحریک کو سب سے زیادہ تقویت میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے بعد ملی، جنہوں نے امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
دو ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت نے احتجاجی علاقے میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش مسلسل پانچویں روز بھی برقرار رکھی ہے۔