واشنگٹن: امریکی فوجی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں انٹرسیپٹر میزائلوں اور ہدایت یافتہ (Guided) ہتھیاروں کے مسلسل استعمال کے باعث امریکی دفاعی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے فوجی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران دفاعی میزائلوں اور جدید ہتھیاروں کے بڑے پیمانے پر استعمال نے امریکی اسلحہ ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس صورت حال نے بحر ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں کسی ممکنہ فوجی تصادم کی صورت میں امریکہ کی دفاعی تیاریوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرسیپٹر میزائلوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی امریکی عسکری قیادت کے لیے ایک حساس مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ دفاعی منصوبہ ساز مستقبل کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر متبادل حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔
دوسری جانب نیویارک پوسٹ نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دفاعی تجزیہ کار کئی ماہ سے خبردار کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور یوکرین کو مسلسل فوجی امداد فراہم کرنے کے نتیجے میں امریکہ کے میزائل اور دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ذخائر میں کمی کے خدشات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب پینٹاگون نے بحرین، متحدہ عرب امارات اور قطر سے اپنے بعض فوجیوں کو نکال کر اردن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ واشنگٹن کے نزدیک اردن نسبتاً محفوظ مقام تصور کیا جا رہا تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے ایران کے جوابی حملوں میں اردن بھی اہم ہدف بن گیا، جہاں حملوں کے نتیجے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔
امریکی حکام کی جانب سے ان رپورٹس پر تاحال کوئی باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار سے ہتھیاروں کا استعمال جاری رہا تو امریکہ کو اپنے دفاعی ذخائر کی بحالی اور پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔