امریکا نے مسلسل دوسرے روز بھی ایران میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے،جن میں جنوبی ایران کے متعدد فوجی اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا،تازہ حملوں میں فائر فائٹر سمیت تین شہری شہید ہوگئے۔
امریکا کی جانب سے ایران پر آج بھی خوفناک فضائی حملےکیےگئے،جس کے نتیجےمیں ایران کے شہر سیریک،بندرعباس، چابہار اورکنارک میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،جبکہ بوشہر،ہرمزگان اورجزیرہ ابوموسیٰ میں کئی مقامات پر شدید بمباری کی اطلاعات ہیں۔
گورنر خوزستان کےمطابق امریکا کی جانب سےایران کے شہر اہواز پر حملے میں 3شہری شہید ،متعدد زخمی ہوگئے،امریکا نے آج صبح صوبے خوزستان کے مغربی شہر اہواز پر حملہ کیا تھا۔
امریکی فوج کی جانب سےکہاگیا ہےکہ تازہ ترین حملوں میں ایران کے 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایاگیا، ایران پرحملوں میں فضائی دفاعی نظام،ساحلی نگرانی کےمراکزکونشانہ بنایا۔
ایران کےمیزائل اورڈرون ذخائر اور بحری فوجی صلاحیتیوں اورساحلی علاقوں میں قائم فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر پربھی حملےکیےگئے۔
تجارتی جہازوں پر حملے کرکے ایران نے جہاز رانی کی آزادی کو خطرےمیں ڈالا،کارروائی کامقصد آبنائے ہرمز میں تہران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے، ایک امریکی عہدیدار نےسی این این کوبتایا ایران کےساتھ جنگ بندی فی الحال مؤثرنہیں رہی،مزید فوجی کارروائیاں بھی کی جاسکتی ہیں ۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہےکہ انہوں نے ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت میں امریکی فوج کے 2 اڈوں اور بحرین میں بھی 2 امریکی اڈوں پرحملہ کیا،اگر امریکا نےدوبارہ حملے کیےتو ردعمل خطےمیں موجود دیگر امریکی اڈوں تک بھی پھیل جائے گا۔