امریکا کا ایران پر بڑا فضائی حملہ، 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنا ڈالا

امریکی فوج نے رات گئے ایران میں 80 سے زائد فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق کارروائی ایران کی جانب سے بحری گزرگاہ میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔

حملوں میں ایران کے جزیرہ قشم، خارگ، سیرک اور بندرعباس میں واقع فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹ کام کاکہنا ہےکہ ایران پر حالیہ حملوں میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا،تہران کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا ہوگی، فی الحال امریکی حملے روک دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی میڈیا ادارے ایگزیوس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے دورے کے دوران ایران پر حملوں کی منظوری دی تھی۔

دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیا،اورامریکی حملوں کا تباہ کن جواب دینے کا اعلان کیا،کہاکہ آبنائےہرمزمیں محفوظ بحری راستہ وہی ہوگا جو تہران مقرر کرے گا، آبنائے ہرمز کے انتظام میں امریکی مداخلت قبول نہیں۔

امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت کا لائسنس پھر منسوخ کردیا،یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں ایرانی اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے،مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکی محکمہ خزانہ نے 22 جون کو عمومی لائسنس جاری کیا تھا جس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل،پیٹروکیمیکل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔

ادھر اسرائیلی فضائیہ نےجنوبی لبنان میں بعض مقامات کو نشانہ بنایا ہےتاہم ان حملوں سے جانی نقصان کی فوری طور پر اطلاع نہیں مل سکی،یاد ر ہے کہ اس سے پہلے امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئے حملے کیے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے