ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار تھے، تاہم مختلف ممالک کی درخواست پرکارروائی روک دی ہے، امریکی صدر

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار تھے، تاہم مختلف ممالک کی درخواست پر کارروائی روک دی گئی ہے۔

ٹرمپ کےمطابق قطر،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اورچند دیگر ممالک نےحملہ نہ کرنے کی درخواست کی،جس کے بعد ممکنہ کارروائی کو دو سےتین دن کیلئےمؤخر کیاگیا،وقت کم ہے لیکن سفارتی کوششوں کا امکان موجود ہے۔

امریکی صدر نےکہاکہ ممکنہ معاہدےکی صورت میں ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے کیونکہ امریکا ایران کو نیوکلیئر ہتھیار رکھنےکی اجازت نہیں دے سکتا، ایران کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہے،ایران کی پہلی اور دوسری درجے کی قیادت کو بھی ختم کردیا گیا ہے،عسکری طور پر ایران کے پاس اب کچھ نہیں بچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض ممالک براہ راست ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں مصروف ہیں اور امید ہے کہ صورتحال بہتری کی جانب جا سکتی ہے،اگر بغیر بمباری کے مسئلہ حل ہو گیا تو انہیں بے حد خوشی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے