ٹوکیو: جاپان کی وزیرِاعظم سنائے تاکائیچی نے کہا ہے کہ اب یہ فیصلہ عوام کریں گے کہ آیا انہیں مزید وزیرِاعظم رہنا چاہیے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا مقصد پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیرِاعظم سنائے تاکائیچی نے کہا کہ معاشی اصلاحات، دفاعی پالیسی میں تبدیلی اور سخت امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے پارلیمان میں مضبوط اکثریت ناگزیر ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ کو داؤ پر لگا کر عوام سے براہِ راست مینڈیٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسمبلی کی تحلیل اور 8 فروری کو عام انتخابات کے اعلان کے بعد ایوانِ زیریں کی 465 نشستوں کے لیے 12 روزہ انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں حکمراں اتحادی جماعتوں کو معمولی اکثریت حاصل ہوئی تھی، جبکہ ایوانِ بالا میں حکومت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی، جس کے باعث قانون سازی کے عمل میں شدید مشکلات پیش آ رہی تھیں۔
اس کے علاوہ حکمراں اتحاد کے اندر مفادات کے ٹکراؤ اور باہمی اختلافات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا، جس نے حکومتی استحکام کو متاثر کیا۔
واضح رہے کہ سنائے تاکائیچی نے اپنے دیرینہ اتحادی کومیتو کی علیحدگی کے بعد دائیں بازو کی جماعت جاپان انوویشن پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم کیا ہے۔ دونوں جماعتوں نے مضبوط فوج، شاہی جانشینی کو مردوں تک محدود رکھنے اور بند نیوکلیئر ری ایکٹرز کی بحالی جیسے نکات پر اتفاق کیا ہے۔
دوسری جانب کومیتو نے اپوزیشن کی جماعت کانسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان کے ساتھ مل کر "سینٹرسٹ ریفارم الائنس” تشکیل دے دیا ہے، جس کا منشور صنفی مساوات، جامع معاشرہ اور عوامی مفادات کو ترجیح دینے پر مبنی ہے۔