ڈیووس میں ٹرمپ کا بیان، یورپی ٹیرف معطل اور مذاکرات کی ضرورت پر زور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو کے سربراہ مارک روٹے سے ملاقات کے بعد گرین لینڈ کے معاملے پر ایک ممکنہ معاہدے کا ابتدائی فریم ورک تیار ہو گیا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم ڈیووس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پہلی بار واضح کیا کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔

ٹرمپ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد یورپی ممالک پر عائد کیے جانے والے ممکنہ امریکی ٹیرف بھی ختم کر دیے گئے ہیں اور یکم فروری سے نافذ ہونے والے ٹیرف اب لاگو نہیں ہوں گے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ڈنمارک سے گرین لینڈ کے معاملے پر فوری مذاکرات کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ امریکا اس مسئلے پر سنجیدہ بات چیت چاہتا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ نے بھی امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے پر کام عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق امریکی بیانات نے یورپ اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

ڈنمارک نے صدر ٹرمپ کی جانب سے طاقت کے استعمال کو مسترد کرنے کو مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ امریکی صدر اب بھی گرین لینڈ کے حصول کے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔

دوسری جانب، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی نظام کو کمزور کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے