واشنگٹن: امریکی سیاست میں بڑی ہلچل دیکھنے کو ملی ہے جہاں کانگریس کے رکن جان بی لارسن نے صدر ڈونلڈ جے۔ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی قرارداد H.Res. 1155 پیش کی ہے۔
اس قرارداد میں صدر ٹرمپ پر سنگین جرائم اور بدعنوانیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اسے ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔
اس مواخذے کے آرٹیکلز کی تیاری رالف نیڈر اور بروس فائن نے کی تھی، جن میں صدر پر 13 مختلف الزامات شامل ہیں۔
ان میں اہم الزامات یہ ہیں کہ انہوں نے غیر مجاز فوجی اقدامات کیے، جنگی اختیارات کا غلط استعمال کیا، شہری آزادیوں اور اظہار رائے کے حقوق کی خلاف ورزی کی، اور حکومتی طاقت کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
اس کے علاوہ بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات بھی شامل ہیں، جنہیں کچھ قانون ساز جنگی جرائم کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اب 50 سے زائد ہاؤس ڈیموکریٹس اور دو سینیٹ ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کے ایران پر کیے گئے پوسٹ کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ کو فوری معزول کیا جائے، مواخذہ یا امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت ہٹایا جائے۔
واضح رہے کہ چونکہ ہاؤس میں ری پبلکنز کی اکثریت ہے، اس لیے اس قرارداد کے کامیابی سے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں اور یہ زیادہ تر بحث اور تفتیش کے مرحلے تک محدود رہنے کا امکان رکھتی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو تنقیدی انداز میں “ضعیف” قرار دیا ہے۔
یہ اقدام امریکی اندرونی سیاست میں بڑھتی کشیدگی اور صدر ٹرمپ کے خلاف قانونی و سیاسی دباؤ کی تازہ مثال ہے، جس سے ملک میں اختلافات اور سیاسی محاذ آرائی مزید بڑھ سکتی ہے۔