امریکا و ایران سیز فائر کیلئے آمادہ، پاکستان کی بڑی سفارتی جیت

اسلام آباد/تہران: پاکستان کی بڑی سفارتی جیت، اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور عارضی جنگ بندی کے امکانات واضح ہوگئے۔

ایران نے اعلان کیا ہے کہ 10 نکاتی منصوبے کی بنیاد پر 15 دن کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات شروع کیے جائیں گے، جن کا آغاز جمعہ سے ہوگا، جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی فوجی کارروائی عارضی طور پر روکنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بطور نمائندہ سپریم قومی سلامتی کونسل ایک تفصیلی پیغام میں کہا ہے کہ ایران خطے میں ایک مستقل اور باوقار امن کا خواہاں ہے، تاہم اس کے لیے اس کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے جنگ کے خاتمے کے لیے اہم اور مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق اگر ایران پر حملے بند کر دیے جائیں تو اس کی مسلح افواج بھی اپنے دفاعی حملے روکنے کے لیے تیار ہیں۔

مزید برآں، دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت ایرانی مسلح افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت ممکن بنائی جائے گی، تاہم اس عمل میں تکنیکی اور سکیورٹی پابندیوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔

ایران نے اپنے مطالبات میں واضح کیا ہے کہ محورِ مزاحمت کے تمام عناصر کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ، خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے مکمل انخلاء، جنگی نقصانات کا ہرجانہ، تمام اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی رہائی، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے معاہدے کو قانونی تحفظ دینا شامل ہے۔

تہران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بجائے ایک مستقل اور جامع حل چاہتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے ایران پر متوقع حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "سوشل ٹروتھ” پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو امریکہ دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے معطل رکھنے کے لیے تیار ہے، اور اسے دو طرفہ جنگ بندی قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت بھی نمایاں حد تک آگے بڑھ چکی ہے۔

امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجویز موصول ہو چکی ہے، جسے مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ماضی کے بیشتر متنازع نکات پر کافی حد تک اتفاق رائے ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سفارتی ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں متوقع یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک فیصلہ کن پیش رفت بن سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے