واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو برطرف کردیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں بڑی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس نے امریکی سیاسی حلقوں اور کابینہ کے ارکان میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بانڈی کو ان کے عہدے سے برطرف کر کے نائب اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کر دیا ہے۔
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پام بانڈی کی اچانک برطرفی کے بعد ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل، سیکریٹری آرمی جنرل ڈینئیل پیٹرک اور وزیرِ محنت لاری شاویز کی تبدیلی کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ خاص طور پر کامرس سیکریٹری ہوورڈ لیوٹنک اور لیبر سیکریٹری لاری شاویز کی کارکردگی سے شدید ناراض اور مایوس ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی کابینہ میں مزید اکھاڑ پچھاڑ پر غور کر رہے ہیں۔
حالیہ تبدیلیوں نے وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام اور کابینہ سیکریٹریز کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اعلیٰ حکام مسلسل اپنے فون چیک کر رہے ہیں کہ کہیں اگلی باری ان کی نہ ہو۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر ٹرمپ کی جانب سے ان اقدامات کا مقصد انتظامیہ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنا اور ان افراد کو سامنے لانا ہے جو ان کے وژن پر سختی سے عمل پیرا ہو سکیں۔