اپنی سرزمین کسی پڑوسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، صدر مملکت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملکی یا غیر ملکی طاقت کو اپنے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ بطور دوبار منتخب صدر پارلیمنٹ سے یہ ان کا 9واں خطاب ہے جو جمہوری تسلسل اور قومی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ قوموں کا اصل امتحان صرف بحرانوں میں نہیں بلکہ اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے۔ جمہوریہ کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ کی بالادستی، حکومت کی ذمہ داری اور مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے۔ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں ملکی خودمختاری کے تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کے فروغ کے عزم کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ایسی جمہوری ریاست کا تصور دیا جو قانون اور آئین کی حکمرانی پر قائم ہو، جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے متفقہ آئین دیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے جمہوری عمل کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر ان کا ایمان عملی اقدامات سے ثابت ہے اور ماضی میں صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے گئے، جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صدر کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت بن چکا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بلااشتعال حملوں کے باوجود پاکستانی افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جارحیت کا عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر مؤثر جواب دیا گیا اور عالمی برادری نے پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے گی کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان کو اپنی خودمختاری کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر دراندازی روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

صدر مملکت نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران جنگ چھیڑے جانے کی شدید مذمت کی اور خطے کو مزید بحران سے بچانے کے لیے تحمل اور مذاکراتی حل پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے نئے دروازے کھل رہے ہیں جبکہ پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔ سی پیک 2 ملک کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا اور چین کی قیادت کا تعاون قابل قدر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا مؤقف اصولی ہے اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رہے گی۔ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اقدامات کو انہوں نے آبی دہشت گردی قرار دیا۔

انہوں نے بلوچستان کی محرومیوں کے خاتمے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ معاشی استحکام اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات، اخراجات میں شفافیت، ادارہ جاتی بہتری اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

پاکستان کلین انرجی کے میدان میں پیچھے نہیں رہ سکتا اور سماجی تحفظ کے پروگرام خصوصاً بی آئی ایس پی کے ذریعے پسماندہ طبقات کو بااختیار بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ معاشی فوائد عام آدمی تک پہنچیں۔

اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود تھے جبکہ مختلف ممالک کے سفرا مہمانوں کی گیلری میں شریک ہوئے۔

سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر پولیس کمانڈوز تعینات تھے۔ اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا اور ایوان میں نعرے بازی کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے