نیویارک: پاکستان نے عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں میں اضافے، اسلحہ کنٹرول کے معاہدوں کے خاتمے اور جنوبی ایشیا میں بڑھتے جوہری خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا دھمکی کے خلاف قانونی طور پر پابند ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی پہلی کمیٹی میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق موضوعاتی بحث کے دوران پاکستانی کونسلر سید عاطف رضا نے کہا کہ جوہری تخفیف اسلحہ 1946 سے عالمی برادری کا بنیادی مقصد رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں کو سلامتی کا حق حاصل ہے اور عالمی سلامتی کو کم سے کم اسلحے کی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
سید عاطف رضا نے کہا کہ فروری میں جوہری ہتھیاروں پر پابندیوں سے متعلق آخری باقی ماندہ دوطرفہ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد دنیا کے دو سب سے بڑے جوہری اسلحہ رکھنے والے ممالک پہلی بار نصف صدی سے زائد عرصے میں باہمی طور پر متفقہ حدود کے بغیر رہ گئے ہیں۔
انہوں نے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے اور ان کے ذخائر میں اضافے، جوہری اشتراک اور توسیعی دفاعی ضمانتوں کے دائرے میں وسعت، جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے سے متعلق بیانات اور قومی دفاعی پالیسیوں میں جوہری ہتھیاروں کے بڑھتے کردار پر تشویش ظاہر کی۔
پاکستانی نمائندے کے مطابق مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیتوں اور خلائی ٹیکنالوجی میں پیش رفت نے روایتی اور جوہری کارروائیوں کے درمیان فرق کو دھندلا دیا ہے، جس سے بحران کے دوران فیصلے کرنے کا وقت کم اور غلط اندازوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے انشقاق پذیر مواد کی تیاری پر پابندی کے مجوزہ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ ذخائر کو نظرانداز کیا گیا تو اس نوعیت کا معاہدہ پہلے سے موجود عدم مساوات کو مستقل شکل دے سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی جانب سے نئے مواد کی پیداوار بحال کیے بغیر جوہری ہتھیاروں میں اضافے کے اعلانات اس امر کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ موجودہ ذخائر کو بھی زیر غور لایا جائے۔
سید عاطف رضا نے امتیازی استثنیٰ اور حفاظتی نگرانی کے انتخابی طریقہ کار کو عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
جنوبی ایشیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی نمائندے نے خطے کے جوہری ماحول کو خاص طور پر خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ خصوصی تعاون کے انتظامات کے تحت غیر محفوظ جوہری مواد کے ذخائر میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ جوہری ہتھیار تعینات کرنے کے ساتھ اپنے ہتھیاروں کو استعمال کے لیے تیار رکھنے کی صلاحیت بھی بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے حادثاتی طور پر میزائل داغے جانے کے واقعات کا بھی حوالہ دیا۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک جوہری تخفیف اسلحہ کا ہدف حاصل نہیں ہوتا، غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کی دھمکی سے تحفظ دینے کے لیے قانونی طور پر پابند معاہدہ فوری ضرورت ہے۔
سید عاطف رضا نے اعلان کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ضمانتوں سے متعلق اپنی قرارداد ایک بار پھر پیش کرے گا اور رکن ممالک سے اس کی حمایت کی اپیل کی۔
پاکستان نے اپنے بیان میں جوہری تخفیف اسلحہ اور اسلحہ کنٹرول کے لیے منصفانہ، غیر امتیازی اور قابل تصدیق اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔