نیویارک: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر فلسطین سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم کی کمیٹی کے اجلاس میں فلسطینی عوام سے پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کے لیے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔
نائب وزیراعظم نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں غیر قانونی آباد کاری، آبادکاروں کے تشدد اور الحاق کی کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مؤثر سفارتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو اور انتظامی امور فلسطینی قیادت میں ہونے چاہئیں، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کو اس عمل میں مرکزی کردار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کا بھی مطالبہ کیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے بھی پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔