اسلام آباد: تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت سے متعلق صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے سامنے متعدد مطالبات رکھ دیے ہیں۔
تحریک کے مطابق عمران خان کو فوری طور پر ذاتی معالجین تک بلا رکاوٹ رسائی دی جائے تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے شفاف اور بروقت طبی نگہداشت ممکن ہو سکے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل کو بغیر کسی تاخیر کے عمران خان کا نجی طور پر معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے، جبکہ تمام میڈیکل رپورٹس اور طبی ٹیسٹ کے نتائج فوری طور پر عوام اور اہلِ خانہ کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔
بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ذاتی معالجین کو کسی دباؤ کے بغیر آزادانہ طبی رائے دینے کا مکمل اختیار دیا جائے۔
تحریک کا کہنا ہے کہ سرکاری میڈیکل بورڈ کے کسی قسم کے اثر و رسوخ یا دباؤ کے بغیر طبی معائنہ ہونا چاہیے، تاکہ علاج کے عمل پر اعتماد بحال ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کے لیے مسلسل اور باقاعدہ فالو اَپ طبی معائنے یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
تحریک نے واضح کیا ہے کہ علاج میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کی صورت میں حکومت تحریری وضاحت دینے کی پابند ہوگی۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ کسی بھی صورت سیاسی نہیں بلکہ ایک انسانی اور آئینی ذمہ داری ہے، جس سے چشم پوشی ناقابلِ قبول ہے۔ تحریک نے خبردار کیا ہے کہ محض نمائشی اقدامات یا تاخیری حربے مسئلے کا حل نہیں ہوں گے۔
اس معاملے پر تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے بھی مشترکہ طور پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی قیدی، خصوصاً سابق وزیر اعظم، کو مناسب اور غیر جانبدار طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور اس سے انحراف قانون اور انسانی اقدار کے منافی ہوگا۔