خیبرپختونخوا میں چوتھے روز بھی احتجاج جاری، موٹروے بند

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کے احتجاجی مظاہرے مسلسل جاری ہیں، مختلف اضلاع میں سڑکوں اور اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

احتجاج کا دائرہ صوبے کے متعدد علاقوں تک پھیل چکا ہے جہاں ٹریفک کی روانی معطل، مسافر پریشان اور تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔

صوبے کے ضلع صوابی میں پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے موٹروے کی بندش چوتھے روز میں داخل ہو چکی ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے طبی معائنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

موٹروے بند ہونے کے باعث بین الصوبائی ٹریفک بری طرح متاثر ہے جبکہ گاڑیوں کی طویل قطاریں لگنے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ادھر کوہاٹ میں پنجاب جانے والی مرکزی سڑک خوشحال گڑھ پل کے مقام پر گزشتہ 2 دن سے بند ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عمران خان کی اسپتال منتقلی کا مطالبہ پورا نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔ سڑک بندش کے باعث نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پنجاب سے آنے جانے والی ٹریفک بھی متبادل راستوں پر منتقل ہو گئی ہے جس سے سفر کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔

جنوبی ضلع لکی مروت میں درہ تنگ کے مقام پر سڑک گزشتہ 3 روز سے احتجاج کی نذر ہے۔

مظاہرین نے سڑک پر دھرنا دے رکھا ہے جس کے باعث علاقے میں آمد و رفت تقریباً معطل ہو چکی ہے۔

اپوزیشن اتحاد کی جانب سے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے لیے احتجاج کا آج چوتھا دن ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ عدالتی اور انسانی بنیادوں پر عمران خان کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے