کراچی (ویب ڈیسک) کراچی میں سندھ اسمبلی کے قریب جماعت اسلامی کی ریلی کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے، جہاں پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی، جبکہ مظاہرین کی جانب سے بھی پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق 10 سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ورلڈ واچ الرٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے متعدد کارکنان رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے دروازے تک پہنچ گئے، جہاں پولیس اور کارکنان کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔ پولیس نے مظاہرین کے ساؤنڈ سسٹم والا ٹرک بھی تحویل میں لے لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کارکنان کے پتھراؤ کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوئے۔ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پولیس نے سندھ اسمبلی کے اطراف پہلے ہی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں، تاہم مظاہرین ان رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے اسمبلی کی جانب بڑھنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس سے قبل جماعت اسلامی کے رکنِ سندھ اسمبلی فاروق فرحان اور پولیس حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جن کے بعد پولیس نے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ پولیس حکام نے واضح کیا تھا کہ مظاہرین کو سندھ اسمبلی تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کورٹ روڈ پر پولیس کی ڈنڈا بردار نفری تعینات کی گئی تھی، جبکہ مظاہرین کی جانب سے رکاوٹیں ہٹا کر سندھ اسمبلی کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی۔