بنگلادیش انتخابات 2026: دھاندلی کے الزامات، جماعت اسلامی کے امیر کی پولنگ مراکز کی حفاظت کی اپیل

ڈھاکا (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلادیش میں عام انتخابات 2026 کے دوران بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے عوام سے اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے پولنگ مراکز کی نگرانی کرنے کی اپیل کی ہے۔

شفیق الرحمان نے اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ ایجنٹس پر حملوں اور خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے کی کوششیں کی گئیں۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ نتائج کے اعلان تک اپنے اپنے پولنگ اسٹیشنوں کی حفاظت کریں تاکہ حقِ رائے دہی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر بنگلادیش میں طلبہ تحریک اور اس کے اتحادیوں نے بعض پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انتخابات میں بے ضابطگیوں سے متعلق سو سے زائد ویڈیوز اور دستاویزی شواہد چیف الیکشن کمشنر کو پیش کیے گئے ہیں۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ پچاس فیصد سے کم رہا۔ دارالحکومت ڈھاکا میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

ڈھاکا کے حلقہ ایٹ میں نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) کے امیدوار ناصرالدین پٹواری پر مبینہ طور پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ پارٹی ترجمان آصف محمود کے ہمراہ ایک پولنگ اسٹیشن کا دورہ کر رہے تھے۔ اسی طرح سراج پور میں یوتھ تنظیم کے صدر پر تشدد کی اطلاعات ہیں، جبکہ ٹھاکر گاؤں میں بی این پی کے سیکریٹری جنرل فخرالاسلام عالمگیر کے حلقے میں بیلٹ پیپرز پر پہلے سے مہریں لگی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم صورتحال نے ملکی سیاسی ماحول کو کشیدہ بنا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے