ساٹھ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 20 بار دھمکی، فوجی کاروائیوں کے اشارے دیئے

ہیوسٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دو ماہ کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، مزید حملوں، سنگین نتائج اور معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سخت اقدامات سے متعلق متعدد بیانات دیے۔

دستیاب تاریخ وار رپورٹوں کے جائزے کے مطابق 25 اگست سے 25 اکتوبر 2026 کے دوران کم از کم 20 مواقع ایسے سامنے آئے جن میں براہِ راست دھمکیوں، فوجی کارروائی کے عندیوں، سخت انتباہات یا سخت کارروائی کرنے سے متعلق بیانات کا ذکر کیا گیا۔

ٹرمپ نے 31 اگست کو ایران کے خلاف مزید حملوں کا عندیہ دیا، جبکہ یکم ستمبر کو ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی صورت میں پہلے سے زیادہ شدید حملوں کی دھمکی دی۔ 10 ستمبر کو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک مقام کو نشانہ بنانے کا بیان بھی سامنے آیا۔

20 اور 22 ستمبر کو ٹرمپ کے بیانات مزید سخت رہے۔ ان مواقع پر انہوں نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو سنگین نتائج بھگتنے اور ملک کو تباہی سے دوچار کرنے سے متعلق انتباہات دیے۔ 27 ستمبر کو انہوں نے انتخابات سے پہلے مزید حملوں کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔

تاہم، 8 اکتوبر کو ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔

اکتوبر کے دوسرے نصف میں بھی فوجی کارروائی سے متعلق بیانات سامنے آتے رہے۔ 16 اکتوبر کو ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک مقام کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا گیا، جبکہ 22 اکتوبر کو ایران کے خلاف باقی کارروائی مکمل کرنے سے متعلق بیان رپورٹ ہوا۔ 24 اکتوبر کو ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر نئے حملے شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور کارروائی اگلے ہی روز شروع ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے معاہدے کے ذریعے فوجی کارروائی سے بچنے کا راستہ بھی کھلا رکھا۔

دستیاب رپورٹوں میں شامل ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ایران کے خلاف امریکی مؤقف میں فوجی دباؤ، سخت انتباہات اور مذاکرات کی پیشکش ساتھ ساتھ جاری رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے