اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ پارٹی رہنماؤں اور اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں اور ان کی بینائی متاثر ہو چکی ہے۔
فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں اور جیل مینول کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے علاج کے معاملے میں حکومتی سطح پر کوتاہی برتی گئی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان تک فوری طور پر ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے اور ان کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ فوری تشکیل دیا جائے۔
فیصل چوہدری کے مطابق حکومت کو کسی مخصوص تاریخ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر طبی بورڈ بنا کر عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صحت کی صورتحال فوری کلینیکل کیئر کی متقاضی ہے اور انہیں اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے علاج میں غفلت برتی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بتایا گیا تھا کہ علاج کے بعد وہ بہتر ہیں، لیکن اب صورتحال مختلف سامنے آ رہی ہے۔
دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خانم نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے وہ آنکھ کی تکلیف کے بارے میں آگاہ کرتے رہے لیکن مناسب علاج نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق صحت کی خرابی کے باوجود مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
حکومتی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور فوری طبی اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔