اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026-2031 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پاکستان کی گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات میں اضافے، مقامی پیداوار کے فروغ، درآمدی ڈیوٹیز میں مرحلہ وار کمی اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو بڑھانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
پالیسی دستاویز کے مطابق 2031 تک گاڑیوں کی برآمدات 6 ارب ڈالر جبکہ آٹو پارٹس کی برآمدات 1.2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازمی برآمدی اہداف مقرر کرنے اور مقررہ اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
نئی پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی مختلف شرحیں تجویز کی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق 2026 سے 2031 تک بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد سیلز ٹیکس رکھنے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی عالمی مالیاتی فنڈ کی تجویز مسترد کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
پالیسی کے تحت 75 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد وفاقی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کم درآمدی ٹیرف متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔
دستاویز کے مطابق آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھانے کے لیے درآمدی ڈیوٹیز میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی اور مالی سال 2030-31 تک ٹیرف 15 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور قرض کی واپسی کی مدت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ پالیسی میں چھوٹی اور کم قیمت گاڑیوں کو کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ میں لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
برآمدات بڑھانے والی کمپنیوں کے لیے مراعات کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ تجاویز کے مطابق برآمدی مالیت کا 5 فیصد معاوضہ دینے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد مراعات فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے جبکہ مسلسل 2 سال اہداف حاصل نہ کرنے والی کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
مقامی سطح پر آٹو پارٹس کی تیاری بڑھانے کے لیے بھی نئے اہداف مقرر کیے جائیں گے۔ مقامی پیداوار کے مقررہ اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں سے مراعات واپس لینے کی تجویز شامل ہے۔
پالیسی کے تحت ایک ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے 5 سال کے دوران 232 ارب روپے سے زائد آمدنی متوقع ہے۔ اس رقم کو برآمدی مراعات، صنعتی ترقی اور آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی بہتر بنانے پر خرچ کرنے کی تجویز ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ قانون دسمبر 2026 تک تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
آٹو سیکٹر میں معیار اور شفافیت بہتر بنانے کے لیے پاکستان آٹوموٹیو ٹیسٹنگ انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ادارے کے ذریعے تحقیق، سرٹیفکیشن اور گاڑیوں کے معیار کی جانچ کو فروغ دیا جائے گا۔
نئی پالیسی میں مقامی اور درآمدی گاڑیوں پر عالمی حفاظتی ضوابط نافذ کرنے، خریداروں کے حقوق کے تحفظ اور کمپنیوں کے معاملات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سال میں 2 مرتبہ آڈٹ کرانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ مقامی پیداوار اور برآمدی مراعات کی ادائیگیوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کیا جائے گا۔
پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی آٹو صنعت کو مضبوط بنانا، گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات بڑھانا، عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر کرنا اور صارفین کو معیاری، محفوظ اور نسبتاً سستی گاڑیاں فراہم کرنا ہے۔