اسلام آباد: سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ اور منتخب وزیرِاعلیٰ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات عوامی مینڈیٹ، آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہیں۔
اپنے بیان میں علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی منتخب حکومت کو طاقت کے ذریعے ختم کرنا اور عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب وزیرِاعلیٰ کو گرفتار کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی حمایت اور اعتماد کے بغیر ملک کو درپیش سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنا اور پائیدار امن قائم کرنا ممکن نہیں۔ امن طاقت کے بے دریغ استعمال سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد، سیاسی استحکام، انصاف اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔
قائد حزب اختلاف سینیٹ نے کہا کہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں منتخب حکومت کو ہٹانا، وزیرِاعلیٰ کو گرفتار کرنا اور گورنر راج و ایمرجنسی کے ذریعے عوامی اختیار محدود کرنا ملک کو استحکام کے بجائے مزید سیاسی تصادم اور انتشار کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو طاقت کے ذریعے دبایا جا سکتا ہے، لیکن عوام کے دلوں سے ان کی سیاسی وابستگی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا عزم ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کے ووٹ کی توہین اور آئینی و جمہوری راستوں کی بندش کے نتائج پورے سیاسی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کسی فرد، خاندان یا مسلط کردہ نظام کی جاگیر نہیں بلکہ کروڑوں عوام کا ملک ہے، جہاں اقتدار کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے، نہ کہ طاقت کے مراکز میں بیٹھ کر۔
قائد حزب اختلاف سینیٹ نے زور دیا کہ آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کا احترام اور سیاسی حقوق کا تحفظ عوام کا بنیادی حق ہے۔ ان کے بقول پاکستان کا استحکام جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام میں ہے، نہ کہ جبر، گرفتاریوں اور غیر جمہوری اقدامات میں۔