خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ، وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس، گورنر راج اور ایمرجنسی پر غور

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس شروع ہوگیا، جس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئینی آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت طلال چودھری، امیر مقام، سید عمران شاہ، حنیف عباسی، معین وٹو، احد چیمہ، مصطفیٰ کمال، ہارون اختر اور دیگر وفاقی وزرا شریک ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی خصوصی سکیورٹی رپورٹس وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئی ہیں، جن میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، سکیورٹی اداروں کی استعداد، انتظامی مسائل اور انسداد دہشت گردی اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے ساتھ مقامی سہولت کاری، افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر اور انسداد دہشت گردی اقدامات میں مبینہ خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بنے۔ دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون حملوں میں اضافے کو بھی تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2024 میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ 2026 میں ایسے حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بارودی حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔ 2025 میں دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات کے ذریعے 181 حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ ستمبر 2026 تک ایسے حملوں کی تعداد 159 رہی۔

سکیورٹی رپورٹس میں خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد سے متعلق متعدد مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں، جبکہ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو جدید ہتھیاروں، محفوظ گاڑیوں، نگرانی کے آلات اور جدید انٹیلی جنس سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ جنوبی اضلاع میں بکتر بند گاڑیوں کی کمی پولیس کی نقل و حرکت اور کارروائیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ رات کے وقت نگرانی کے لیے نائٹ وژن اور تھرمل امیجنگ آلات بھی مطلوبہ تعداد میں دستیاب نہیں۔

رپورٹ کے مطابق محفوظ شہر منصوبہ تاحال پشاور تک محدود ہے، جبکہ ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو تربیت، وسائل اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کی ضرورت ہے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کو خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ اس کے ضلعی دفاتر، عملیاتی سہولتوں اور خصوصی بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکافی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں دہشت گردی کے بدلتے طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، ادارہ جاتی کمزوریوں اور انتظامی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے گزشتہ روز ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئینی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم ان اقدامات کے بارے میں حتمی سرکاری فیصلے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس 13 اکتوبر کو بلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے