اسلام آباد: پاکستان کے جوہری مواد اور تنصیبات کے تحفظ کے نظام کا پہلا بین الاقوامی جائزہ مکمل کرلیا گیا ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سات رکنی ماہرین کے مشن نے پاکستان کے جوہری سلامتی کے نظام کو مضبوط قرار دیتے ہوئے مزید بہتری کے لیے سفارشات پیش کی ہیں۔
آئی اے ای اے کے مطابق، یہ جائزہ 28 ستمبر سے 9 اکتوبر 2026 تک پاکستان کی دعوت پر مکمل کیا گیا۔ مشن میں چین، رومانیہ، روس اور سلوواکیہ کے ماہرین کے علاوہ ایجنسی کے دو اہلکار شامل تھے۔
ماہرین نے پاکستان کے جوہری مواد اور تنصیبات کے تحفظ سے متعلق قانونی، ضابطہ جاتی اور عملی انتظامات کا جائزہ لیا۔ ٹیم نے کراچی میں سابق کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ ون کا دورہ بھی کیا، جہاں ناکارہ بنانے کے منصوبے اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کے ذخیرے سے متعلق انتظامات کا مشاہدہ کیا گیا۔
آئی اے ای اے نے کہا کہ جائزے کے دوران حفاظتی انتظامات کے حوالے سے اچھے طریقوں کی نشاندہی کی گئی اور نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سفارشات بھی پیش کی گئیں۔
پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق، عالمی ماہرین کی تجاویز سے جوہری سلامتی کے قانونی اور عملی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ یہ جائزہ جوہری مواد اور تنصیبات کے تحفظ کے نظام کا جائزہ تھا۔