اسلام آباد (بزنس ڈیسک) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس کم کر دیے جب کہ اس فیصلے پر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے ریگولیشنز 2026 کا نو ٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، نئے ریگولیشنز کے مطابق پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے ریٹس پر ہی بیچیں گے مگر نئے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو بیچی گئی بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں 17 روپے 19 پیسے کی بڑی کمی کر دی گئی ہے۔
اب نئے صارف کو اس کی فی یونٹ قیمت 3 گنا سے بھی کم یعنی 8 روپے 13 پیسے ملے گی، نئے اور پرانے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ کا بھی نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ، صارف کا یونٹ اب سرکاری یونٹ کے برابر نہیں ہو گا، اب نیشنل گرڈ سے لی گئی ساری بجلی کی فی یونٹ قیمت حکومتی ٹیرف اور سلیبس کے حساب سے ہو گی۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ سیٹھوں کی بجلی سستی کرنے کیلئے گھریلو صارفین پر دوطرفہ حملہ کیا گیا ہے، ایک طرف بجلی کے ریٹس بڑھا دیے گئے دوسری طرف سولر نیٹ میٹرنگ عملی طور پر ختم کر دی گئ۔
انہوں نے لکھا کہ ایوب خان کے 22 خاندان اب بال بچوں سمیت دو سو خاندان بن گئے ہیں اور زرداری اور شریف خاندان ان دو سو کے برابر ہے۔
سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے ایکس پر لکھا، یہ حکومت ثابت کر رہی ہے کہ اس کے پاس ہمارے معاشی چیلنجز خاص طور پر پاور سیکٹر کا کوئی حل نہیں ہے، اضافی ادائیگی کیوں کرنی چاہیے کیونکہ یہ حکومت نااہل، نااہل ہے اور اس کا کوئی تصور نہیں ہے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ صارفین اضافی شمسی توانائی کے لیے بہت کم معاوضہ وصول کرتے ہوئے مکمل قیمت ادا کریں گے، صارفین تقریباً 40 روپے فی یونٹ بجلی خریدیں گے جب کہ زائد رقم تقریباً 11 روپے میں واپس خریدی جائے گی، ٹیکس کے علاج سے اس فرق کو مزید وسیع کیا جائے گا۔