عالمی سلامتی خدشات کے درمیان امریکہ کا نیٹو سے وابستگی کا اعادہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سلامتی خدشات اور جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں امریکہ نے شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم (نیٹو) سے اپنی مضبوط اور غیر متزلزل وابستگی کا ایک بار پھر اعلان کر دیا ہے۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو میں امریکی سفیر نے ان تمام خدشات کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ واشنگٹن نیٹو اتحاد کو کمزور کرنا یا عالمی نظام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔

امریکی سفیر نے واضح کیا کہ نیٹو امریکہ کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں یورپ اور امریکہ کے درمیان اتحاد اور تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ نیٹو کے رکن ممالک کے ساتھ فوجی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی رہنماؤں نے براعظم کی سلامتی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روس کی ہائبرڈ جنگی حکمت عملی کو ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

یورپی حکام کے مطابق روس سائبر حملوں، غلط معلومات کی مہمات، انتخابی عمل میں مداخلت، معاشی دباؤ اور خفیہ عسکری کارروائیوں کے ذریعے یورپی ممالک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ موجودہ دور میں جنگ صرف روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب انفارمیشن وار، سائبر جنگ اور نفسیاتی دباؤ بھی جدید تنازعات کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق روس کی یہ حکمت عملی جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کا ایک منظم طریقہ ہے، جس سے یورپ کی داخلی سلامتی کو براہ راست خطرات لاحق ہیں۔

نیٹو حکام نے تسلیم کیا کہ ہائبرڈ وارفیئر آج اتحاد کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے صرف عسکری طاقت کافی نہیں بلکہ ڈیجیٹل سکیورٹی، سائبر ڈیفنس، اسٹریٹجک کمیونیکیشن اور انٹیلی جنس تعاون کو بھی مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت نیٹو نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں سائبر سکیورٹی اور معلوماتی جنگ کے خلاف اقدامات کو مرکزی حیثیت دی ہے۔

امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ نیٹو کے مشرقی محاذ پر دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

حالیہ دنوں میں اضافی امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی، جدید میزائل دفاعی نظام کی تنصیب اور مشترکہ فوجی مشقوں کو اس عزم کا عملی مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے