مجتبیٰ خامنہ ای: ایران دشمن کی مسلط کردہ جنگوں سے مزید طاقتور بن کر ابھرا، ماضی کی طرف واپسی ممکن نہیں

تہران: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران نے غیر ملکی تسلط، مسلط کردہ جنگوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی قومی طاقت اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور ملک کو دوبارہ ماضی کی طرف لے جانا ممکن نہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے مقدس دفاع کے ہفتے اور حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر جاری پیغام میں ایرانی تاریخ کے مختلف ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلامی نے ایران میں غیر ملکی تسلط کے دور کا خاتمہ کیا اور ملک کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا۔

انہوں نے کہا کہ انقلاب کے بعد ایران کو واپس سابقہ نظام کی طرف لے جانے کی کوششیں کی گئیں اور ایران عراق جنگ کو اسلامی جمہوریہ کے خلاف ان کوششوں کی اہم ترین کارروائی قرار دیا۔ ان کے مطابق 8 سالہ جنگ نے ایرانی معاشرے میں مزاحمت، قربانی، بہادری اور قومی یکجہتی کی مثالیں قائم کیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران ماضی میں بیرونی طاقتوں کے سیاسی اور اقتصادی اثر و رسوخ کا شکار تھا، تاہم موجودہ ایران نے اپنی آزادی، خود انحصاری اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حلقے ایران کو دنیا کی چوتھی سپر پاور سمجھتے ہیں، جبکہ ان کے بقول ایران کی اصل طاقت اس کی عوامی وابستگی اور مزاحمت میں ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی جنگجوؤں اور آبنائے کے محافظوں کی کارروائیوں کے باعث مخالف قوتیں اب بحیرہ عرب سے آگے بڑھنے سے گریز کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر دشمن نے اس خطرے کو مول لیا تو اسے نقصان اٹھانا پڑے گا اور جلد بحیرہ عرب بھی غیر ملکی افواج سے خالی ہوجائے گا۔ یہ دعویٰ ایرانی قیادت کے موجودہ بیانیے کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں نفسیاتی کارروائیوں اور خوف کی فضا کے ذریعے تہران کی سڑکیں خالی کرانے کی کوششیں کی گئیں، جبکہ آج ایرانی عوام بڑی تعداد میں ملک کے دفاع اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے میدان میں موجود ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی معاشرے کے مختلف طبقات کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری دفاعی تیاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے عوام ملک کی خودمختاری اور آبنائے ہرمز پر اپنے حق کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران جن حالات سے گزر چکا ہے، وہ دوبارہ نہیں آئیں گے اور دشمن کی جانب سے ملک کو ماضی کی صورت حال میں واپس لے جانے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔

پیغام میں آیت اللہ روح اللہ خمینی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ انقلاب اور جنگ کے دوران قائم ہونے والی مزاحمت نے ایران کی موجودہ شناخت اور دفاعی صلاحیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے نصراللہ کو عرب دنیا کے ایک اہم مزاحمتی کمانڈر اور مزاحمتی محاذ کی بڑی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تقاریر اور عملی کردار نے لبنان اور خطے میں مزاحمت کے حامیوں کو تقویت دی۔

انہوں نے کہا کہ حسن نصراللہ نے لبنان کا نام بلند کیا اور مزاحمتی جدوجہد میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے مطابق نصراللہ کی جدوجہد اور قربانی آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے