اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا۔ حکومت صوبے کو تباہی کی طرف جاتے ہوئے خاموش تماشائی بن کر نہیں دیکھ سکتی۔
شہباز شریف نے صورت حال کا موازنہ روم کے جلنے اور نیرو کے بانسری بجانے سے کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے حالات میں خاموش نہیں رہ سکتی۔
وزیراعظم نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کی پیشکش کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تعاون کے لیے تیار تھی، تاہم مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے۔