بل گیٹس کا مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑا انتباہ، غلط ہاتھوں میں جانے پر بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ

واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی غلط ارادے رکھنے والے افراد کے ہاتھ لگ کر ایسے واقعات کا سبب بن سکتی ہے جن میں ایک ارب تک افراد کی ہلاکت کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

بل گیٹس نے کہا کہ جدید مصنوعی ذہانت کے آلات اور بدنیتی رکھنے والے افراد کا امتزاج انتہائی طاقتور اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، تاہم دنیا کے کئی ممالک اس خطرے کو نظر انداز کر رہے ہیں یا اسے صرف مصنوعی ذہانت کی عالمی مسابقت کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا خطرہ ان افراد سے ہے جو مصنوعی ذہانت کو دھوکا دہی، بجلی کے نظام کو بند کرنے، بینک کھاتوں میں خلل ڈالنے یا دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

بل گیٹس کے مطابق ماضی میں سائبر حملوں یا حیاتیاتی دہشت گردی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے بڑے ممالک کی صلاحیت درکار ہوتی تھی، لیکن اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے چھوٹے گروہ بھی ایسے اقدامات کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں جو پہلے صرف بڑی ریاستیں انجام دے سکتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو جدید مصنوعی ذہانت کے نظام کے لیے حفاظتی اقدامات یقینی بنانا ہوں گے، بصورت دیگر دنیا کو متعدد بڑے منفی واقعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے مثبت اور منفی استعمال کے درمیان فرق کرنا بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق نئی بیماری کی دوا تیار کرنے اور حیاتیاتی دہشت گردی کے لیے خطرناک آلہ بنانے میں بعض اوقات ایک جیسی ٹیکنالوجیز استعمال ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ جدید اور طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام کی نگرانی کی جائے اور یہ ریکارڈ رکھا جائے کہ ان نظاموں کے ذریعے کیا سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان مصنوعی ذہانت سے متعلق مذاکرات پر بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کا بات چیت کرنا اچھی بات ہے، تاہم اس وقت ایسی کوئی ٹھوس تجویز سامنے نہیں آئی جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے منفی استعمال کو روکنے کے لیے مشترکہ طور پر نگرانی اور حفاظتی نظام قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ دنیا کے ماہرین، حکومتوں اور ٹیکنالوجی کی صنعت کو مل کر یہ طے کرنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کو کس طرح محفوظ انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے