ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کا پہلا دور مکمل

برگن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ: ایران، امریکہ، پاکستان اور قطر کے درمیان چار فریقی مذاکرات کا پہلا دور تقریباً 80 منٹ تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگیا، جس کے بعد ایرانی وفد نے اندرونی مشاورت کا آغاز کر دیا۔

سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے والے یہ مذاکرات رواں ہفتے طے پانے والے 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت شروع ہونے والے 60 روزہ مذاکراتی عمل کا باقاعدہ آغاز ہیں۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد میں شامل تھے۔ ایرانی حکام نے مذاکرات میں اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

مذاکرات سے قبل ایران نے واضح کیا تھا کہ پیش رفت کا انحصار امریکہ کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل پر ہوگا، بالخصوص لبنان میں اسرائیلی حملوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات پر۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جبکہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی وفد کا حصہ تھے۔ پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ثالثی کی قیادت کی، جبکہ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی بھی مذاکراتی عمل میں شریک رہے۔

اتوار کے روز مذاکرات سے قبل محمد باقر قالیباف نے قطری اور پاکستانی ثالثوں سے علیحدہ ملاقاتیں کیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سوئس ہم منصب سے بھی ملاقات کی۔

ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات کا مرکزی نکتہ امریکہ کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کا پابند بنانا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق تہران نے ثالث ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی ضمانت دیں، جس میں ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف جارحانہ اقدامات کا خاتمہ اور خصوصاً لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مکمل بندش شامل ہے۔

مذاکرات میں ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے یا ان کے اثرات کم کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر عائد ایرانی پابندیوں میں ممکنہ نرمی بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کے لیے ایک اہم عالمی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

پہلے دور کے اختتام کے بعد ایرانی وفد اندرونی مشاورت میں مصروف ہے، جبکہ مذاکرات کے آئندہ مراحل کے لیے تیاری جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے